شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے
کلام: افتخارعارف
شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہےجس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہے
شکل بننے نہیں پاتی کہ بگڑ جاتی ہےنئی مٹی کو نئے چاک سے خوف آتا ہے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)
مہمان شاعر: افتخارعارف
شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہےجس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہے
شکل بننے نہیں پاتی کہ بگڑ جاتی ہےنئی مٹی کو نئے چاک سے خوف آتا ہے
آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھصبح کی بنیاد رکھنی ہے تو پہلے خواب دیکھ
دوش پر ترکش پڑا رہنے دے پہلے دل سنبھالدل سنبھل جائے تو سوئے سینہِ احباب دیکھ
اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکنجو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا!
مقصود ہنر سوز حیات ابدی ہےیہ ایک نفس یا دو نفس مثل شرر کیا!