ملک کی آواز میں
وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہو
کلام: حفیظ جالندھری · محفل: ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری) · 2025-12-16
«وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہو» حفیظ جالندھری کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)» میں 16 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔
وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہوآواز نفس ہی جسے آواز درا ہو
خاموش ہو کیوں درد محبت کے گواہودعوے کو نباہو مرے نالو مری آہو