وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہو
کلام: حفیظ جالندھری
وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہوآواز نفس ہی جسے آواز درا ہو
خاموش ہو کیوں درد محبت کے گواہودعوے کو نباہو مرے نالو مری آہو
ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)
مہمان شاعر: حفیظ جالندھری
وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہوآواز نفس ہی جسے آواز درا ہو
خاموش ہو کیوں درد محبت کے گواہودعوے کو نباہو مرے نالو مری آہو
مضحکہ آؤ اڑائیں عشق بے بنیاد کااک جدا مدفن بنائیں تیشۂ فرہاد کا
واہ واہ کیا رنگ بدلا گلشن ایجاد کاسایۂ گل پر گماں ہونے لگا صیاد کا