5 اشعار

وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہو

Vo qāfila ārām-talab ho bhī to kyā ho

وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہو

«وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہو» حفیظ جالندھری کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)» میں 16 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہوآواز نفس ہی جسے آواز درا ہو

خاموش ہو کیوں درد محبت کے گواہودعوے کو نباہو مرے نالو مری آہو

ہر روز جو سمجھانے چلے آتے ہو ناصحمیں پوچھتا ہوں تم مجھے سمجھے ہوئے کیا ہو

اس دار بقا میں مری صورت کوئی دیکھےاک دم کا بھروسا ہے جو اک دم میں فنا ہو

مجھ کو نہ سنا خضر و سکندر کے فسانےمیرے لیے یکساں ہے فنا ہو کہ بقا ہو

— حفیظ جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں