مقرر · کو ہوسٹ

نایاب

@voiceofIk_804

73
پیش کردہ کلام
81
محفلوں میں شرکت
نایاب کی آواز میں

دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے

کلام: جاوید اختر · محفل: مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر · 2026-02-13

«دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئےدور تک نگاہوں میں ہیں گل کھلے ہوئے

یہ گلا ہے آپ کی نگاہوں سےپھول بھی ہوں درمیاں تو فاصلے ہوئے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو Aankhon mein nihan hai jo munajat wo tum ho ضیاء جالندھری غزل
  2. 02 کسی کی بات نہیں تھی لکیر پتھر کی Kisi ki baat nahin thi lakeer patthar ki اسماعیل راز
  3. 03 ابتدا سا کچھ انتہا سا کچھ Ibtida sa kuch inteha sa kuch شاہین عباس آواز میں دستیاب
  4. 04 اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو Ab kahan baqi raha noor mein bheega hua tu راکب مختار آواز میں دستیاب
  5. 05 اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے Ae jazba-e-dil gar main chahoon har cheez muqabil aa jaye بہزاد لکھنوی آواز میں دستیاب
  6. 06 میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں۔۔۔ Main aur meri tanhai aksar yeh baatein karte hain... جاوید اختر آواز میں دستیاب
  7. 08 نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری Nahin hai munhasir is baat par yaari hamari جواد شیخ آواز میں دستیاب
  8. 09 ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھے Zara si baat pe nam-dida hua karte the جواد شیخ آواز میں دستیاب