نایاب کی آواز میں
اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو
کلام: راکب مختار · محفل: حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار · 2026-04-21
«اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو» راکب مختار کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔
اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا توہائے افسوس کئی ہاتھوں سے میلا ہوا تو
ایک چھالے میں سمیٹوں تجھے رسوا کر دوںدشت اترا نہ مرے سامنے پھیلا ہوا تو