مقرر · کو ہوسٹ

نایاب

@voiceofIk_804

73
پیش کردہ کلام
81
محفلوں میں شرکت
نایاب کی آواز میں

اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو

کلام: راکب مختار · محفل: حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار · 2026-04-21

«اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو» راکب مختار کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا توہائے افسوس کئی ہاتھوں سے میلا ہوا تو

ایک چھالے میں سمیٹوں تجھے رسوا کر دوںدشت اترا نہ مرے سامنے پھیلا ہوا تو

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو Aankhon mein nihan hai jo munajat wo tum ho ضیاء جالندھری غزل
  2. 02 کسی کی بات نہیں تھی لکیر پتھر کی Kisi ki baat nahin thi lakeer patthar ki اسماعیل راز
  3. 03 ابتدا سا کچھ انتہا سا کچھ Ibtida sa kuch inteha sa kuch شاہین عباس آواز میں دستیاب
  4. 05 اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے Ae jazba-e-dil gar main chahoon har cheez muqabil aa jaye بہزاد لکھنوی آواز میں دستیاب
  5. 06 میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں۔۔۔ Main aur meri tanhai aksar yeh baatein karte hain... جاوید اختر آواز میں دستیاب
  6. 07 دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے Dekha ek khwab toh yeh silsile hue جاوید اختر آواز میں دستیاب
  7. 08 نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری Nahin hai munhasir is baat par yaari hamari جواد شیخ آواز میں دستیاب
  8. 09 ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھے Zara si baat pe nam-dida hua karte the جواد شیخ آواز میں دستیاب