آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو
کلام: ضیاء جالندھری
آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہوجس سمت سفر میں ہے مری ذات وہ تم ہو
جو سامنے ہوتا ہے کوئی اور ہے شایدجو دل میں ہے اک خواب ملاقات وہ تم ہو
تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ضیا جالندھری
مہمان شاعر: ضیاء جالندھری
آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہوجس سمت سفر میں ہے مری ذات وہ تم ہو
جو سامنے ہوتا ہے کوئی اور ہے شایدجو دل میں ہے اک خواب ملاقات وہ تم ہو