10 اشعار

دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے

Dekha ek khwab toh yeh silsile hue

دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے

«دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئےدور تک نگاہوں میں ہیں گل کھلے ہوئے

یہ گلا ہے آپ کی نگاہوں سےپھول بھی ہوں درمیاں تو فاصلے ہوئے

دیکھا ایک خواب تومیری سانسوں میں بسی خوشبو تیری

یہ تیرے پیار کی ہے جادوگریتیری آواز ہے ہواؤں میں

پیار کا رنگ ہے فضاؤں میںدھڑکنوں میں تیرے گیت ہیں ملے ہوئے

کیا کہوں کے شرم سے ہیں لب سلے ہوئےدیکھا ایک خواب تو

میرا دل ہے تیری پناہوں میںآ چھپا لوں تجھے میں باہوں میں

تیری تصویر ہے نگاہوں میںدور تک روشنی ہے راہوں میں

کل اگر نہ روشنی کے قافلے ہوئےپیار کے ہزار دیپ ہیں جلے ہوئے

دیکھا ایک خواب تو

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں