نایاب کی آواز میں
ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھے
کلام: جواد شیخ · محفل: جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ · 2026-02-12
«ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔
ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھےہم بھی کیا سادہ و پیچیدہ ہوا کرتے تھے
عکس بندی کی ہوس ان میں کہاں سے آئیمہرباں ہاتھ تو نادیدہ ہوا کرتے تھے