مقرر · کو ہوسٹ

نایاب

@voiceofIk_804

73
پیش کردہ کلام
81
محفلوں میں شرکت
نایاب کی آواز میں

نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری

کلام: جواد شیخ · محفل: جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ · 2026-02-12

«نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماریکہ تو کرتا رہے ناحق طرف داری ہماری

اندھیرے میں ہمیں رکھنا تو خاموشی سے رکھناکہیں بیدار ہو جائے نہ بیداری ہماری

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو Aankhon mein nihan hai jo munajat wo tum ho ضیاء جالندھری غزل
  2. 02 کسی کی بات نہیں تھی لکیر پتھر کی Kisi ki baat nahin thi lakeer patthar ki اسماعیل راز
  3. 03 ابتدا سا کچھ انتہا سا کچھ Ibtida sa kuch inteha sa kuch شاہین عباس آواز میں دستیاب
  4. 04 اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو Ab kahan baqi raha noor mein bheega hua tu راکب مختار آواز میں دستیاب
  5. 05 اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے Ae jazba-e-dil gar main chahoon har cheez muqabil aa jaye بہزاد لکھنوی آواز میں دستیاب
  6. 06 میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں۔۔۔ Main aur meri tanhai aksar yeh baatein karte hain... جاوید اختر آواز میں دستیاب
  7. 07 دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے Dekha ek khwab toh yeh silsile hue جاوید اختر آواز میں دستیاب
  8. 09 ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھے Zara si baat pe nam-dida hua karte the جواد شیخ آواز میں دستیاب