9 اشعار

ترے حسن نظر کا یہ بھی اک اعجاز ہے ساقی

Tere husn-e-nazar ka yeh bhi ik aijaz hai Saqi

ترے حسن نظر کا یہ بھی اک اعجاز ہے ساقی

«ترے حسن نظر کا یہ بھی اک اعجاز ہے ساقی» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

ترے حسن نظر کا یہ بھی اک اعجاز ہے ساقیکہ ہر مے کش زمیں پر آسماں پرواز ہے ساقی

خیال اتنا رہے بس اپنے ساغر کی پلانے میںترا انجام ہے ساقی مرا آغاز ہے ساقی

کہیں باہم دگر ٹکرا نہ جائیں ساغر و مینامئے سرجوش اس دم مائل پرواز ہے ساقی

جبین شوق سجدہ کر کہاں کا پاس رسوائیخوشا وقتے کہ سرگرم خرام ناز ہے ساقی

ادھر بھی اک نظر او سب کی جانب دیکھنے والےکہ اک رند خراباتی نظر انداز ہے ساقی

کریں توبہ تو دل بے چین اگر پی لیں تو رسوائیعجب الجھن میں اپنی مے کشی کا راز ہے ساقی

شراب ارغوانی بھی پیوں میں خود تو پانی ہےپلائے تو جو پانی بادۂ شیراز ہے ساقی

پس توبہ مجھے پینے میں آخر کیوں تامل ہوبحمداللہ در توبہ ابھی تک باز ہے ساقی

وہ کیوں جانے لگا دیر و حرم کی ٹھوکریں کھانےترے افقرؔ کو تیرے میکدے پر ناز ہے ساقی

— افقر موہانی