12 اشعار

خوشی جانتے ہیں نہ غم جانتے ہیں

Khushi jante hain na gham jante hain

خوشی جانتے ہیں نہ غم جانتے ہیں

«خوشی جانتے ہیں نہ غم جانتے ہیں» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی» میں 20 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

خوشی جانتے ہیں نہ غم جانتے ہیںجو ان کی رضا ہو وہ ہم جانتے ہیں

جو کچھ چار تنکوں کو ہم جانتے ہیںوہ گلچین و صیاد کم جانتے ہیں

تمہارے ہی جلووں کی ہم روشنی کوتجلیٔ دیر و حرم جانتے ہیں

میں قاتل نہ محشر میں سمجھوں بھی تو کیاتمہیں سب خدا کی قسم جانتے ہیں

مری خاک دل کا پتا بھی نہیں ہےوہ اتنے ستم کو بھی کم جانتے ہیں

خدا کو خدا ہم سمجھتے ہیں واعظمگر ہاں صنم کو صنم جانتے ہیں

کریں گے نہ عرض تمنا کہ ہم خودمحبت کا اپنی بھرم جانتے ہیں

وہی کچھ سمجھتے ہیں اسرار ہستیجو ہستی کو اپنی عدم جانتے ہیں

متاع دو عالم سمجھتے ہیں ہم بھیمگر چار تنکوں سے کم جانتے ہیں

کہیں راز الفت بھی ہوتا ہے ظاہرکہیں کیوں جو کچھ تم کو ہم جانتے ہیں

خدا کو وہی خوب پہچانتے ہیںتمہیں جو خدا کی قسم جانتے ہیں

کھلی ہیں دم نزع آنکھیں جو افقرؔابھی تک وہ آنکھوں میں دم جانتے ہیں

— افقر موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں