11 اشعار

وحشت میں کوئی کار نمایاں نہ کر سکے

Wahshat mein koi kaar-e-numayan na kar sake

وحشت میں کوئی کار نمایاں نہ کر سکے

«وحشت میں کوئی کار نمایاں نہ کر سکے» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

وحشت میں کوئی کار نمایاں نہ کر سکےدامن کو جیب جیب کو داماں نہ کر سکے

درد دروں کا وہ بھی تو درماں نہ کر سکےدشواریٔ حیات کو آساں نہ کر سکے

تر خون دل سے ناوک جاناں نہ کر سکےہم اتنی بھی تو خاطر مہماں نہ کر سکے

کچھ ایسے جلد ختم ہوئے زندگی کے دنہم اعتبار عمر گریزاں نہ کر سکے

دریا میں غرق دیکھنے والے بھی ہو گئےمجھ کو مگر حوالۂ طوفاں نہ کر سکے

جلووں کو دیکھتی رہی میری نگاہ شوقکچھ بھی حریم ناز کے درباں نہ کر سکے

رہتے ہوئے قفس میں زمانہ گزر گئےترک خیال سیر گلستاں نہ کر سکے

سو حشر انتظار میں ہم پر گزر گئےاور آئی ایک حشر کا ساماں نہ کر سکے

وہ سخت جان تھے کہ زمانے کے حادثاتشیرازۂ حیات پریشاں نہ کر سکے

ہم ایسے جا کے بے خود احساس ہو گئےاندازۂ کشاکش زنداں نہ کر سکے

بدنام کر دیا مجھے افقرؔ زمانے میںاخفائے راز دیدۂ گریاں نہ کر سکے

— افقر موہانی