5 اشعار

دکھائی دیتا ہوں اپنے سبب سے ہوتا ہوا

Dikhai deta hoon apne sabab se hota hua

دکھائی دیتا ہوں اپنے سبب سے ہوتا ہواوگرنہ کام یہاں کیا ہے ڈھب سے ہوتا ہوا

کہاں نکلتا ہوں جا کر خبر نہیں مجھ کوگزر رہا ہوں ترے چشم و لب سے ہوتا ہوا

میں مر نہ جاؤں نکل کر تمھارے رستے سےکہ میں تو ہوں ہی تمہاری طلب سے ہوتا ہوا

گروں گا جا ابد آباد کے سمندر میںانہیں جھلستے ہوئے روز و شب سے ہوتا ہوا

اتر ہی جاؤں گا اس دل میں آفتاب حسینؔکہ راستہ سا تو ہے کنج لب سے ہوتا ہوا

— آفتاب حسین