5 اشعار

ہر سمت گونجتا ہوا آوازہ ہے مرا

Har simt goonjta hua aawaza hai mera

ہر سمت گونجتا ہوا آوازہ ہے مراخوش ہوں بہت کہ زخم ابھی تازہ ہے مرا

ٹھوکر لگاتا ہوں تو نکلتے ہیں راستےدیوار جس کو کہتے ہو دروازہ ہے مرا

کچھ بھی نہیں ہے میرے لئے تیری کائناتاور ہے بھی کچھ اگر تو بس اندازہ ہے مرا

آگے نکل گیا ہوں میں اپنے وجود سےبکھرا ہوا فضاؤں میں شیرازہ ہے مرا

نشہ اتر رہا ہے تو اب سوچتا ہوں میںیہ زندگی نہیں ہے یہ خمیازہ ہے مرا

— آفتاب حسین