6 اشعار

یہ دل کا خالی جام لیے کیا ادھر ادھر ٹکراتا ہے

Ye dil ka khaali jaam liye kya idhar udhar takrata hai

یہ دل کا خالی جام لیے کیا ادھر ادھر ٹکراتا ہےآ لگ جا آ کر سینے سے جیسے پتھر ٹکراتا ہے

کن اوبڑ کھابڑ رستوں میں ٹھوکر پر ٹھوکر کھاتا ہوںآنکھوں سے خواب الجھتے ہیں پیروں سے سفر ٹکراتا ہے

اس حبس حواس کے موسم میں دم سادھ کے بیٹھا ہوں خوش ہوںکسی خواب خیال کا جھونکا کیوں مجھ سے آ کر ٹکراتا ہے

اس ہونے کی حیرانی میں اس وحشت بھر ویرانی میںمنظر سے میں ٹکراتا ہوں مجھ سے منظر ٹکراتا ہے

کوئی خواہش خون کی گردش میں چکر پر چکر کاٹتی ہےکوئی لہولہان خیال ہے جو مرے دل سے سر ٹکراتا ہے

اس اندھی کابک کے اندر پرواز کی مہلت ہے بھی تو کیااڑتا ہوں تو میرے شہپر سے کسی اور کا پر ٹکراتا ہے

— آفتاب حسین