7 اشعار

یہ بات راہرو نکتہ داں سے دور نہیں

Ye baat rahrau nuqta-dan se door nahin

یہ بات راہرو نکتہ داں سے دور نہیںزمیں کہیں کی بھی ہو آسماں سے دور نہیں

سمندروں کا سفر ہے تو حوصلہ رکھوہوا کا لمس کسی بادباں سے دور نہیں

وہی مہک ہے جو رستہ سجھا رہی ہے مجھےسو چل رہا ہوں اور اس گلستاں سے دور نہیں

وہ ایک خواب کہ جس کا خیال رہتا ہےیقیں سے دور ہو لیکن گماں سے دور نہیں

میں اس کو چوم کے آیا ہوں اور یہ سوچتا ہوںیہ واقعہ ہے مگر داستاں سے دور نہیں

نئے زمانے کو جاتے ہوئے یہ دھیان رہےیہ راستہ بھی رہ رفتگاں سے دور نہیں

میں ایک حرف لکھوں اور حوالہ بن جائےیہ معجزہ مرے عجز بیاں سے دور نہیں

— آفتاب حسین