7 اشعار

دھیان میں آتی ہوئی دل میں لپکتی ہوئی ہے

Dhyan mein aati hui dil mein lapakti hui hai

دھیان میں آتی ہوئی دل میں لپکتی ہوئی ہےروشنی دور بہت دور چمکتی ہوئی ہے

کیسی خوشبو ہے کہ سینے میں لیے پھرتا ہوںکیا ہوا ہے کہ مرے سر میں سنکتی ہوئی ہے

چلتا جاتا ہوں اماوس کے گھنے جنگل میںآگے آگے کوئی پائل سی چھنکتی ہوئی ہے

ایک تالاب کہ ہر رت میں بھرا رہتا ہےایک چھاگل کہ جو دن رات چھلکتی ہوئی ہے

بہکا بہکا ہوا پھرتا ہوں کسی دھیان کے ساتھاور یہ رات مرے ساتھ بھٹکتی ہوئی ہے

سر سلامت ہے تو سمجھو نہ سلامت مجھ کواندر اندر کوئی دیوار درکتی ہوئی ہے

یہ بھی کچھ کم تو نہیں عمر کے اس موسم میںدل دھڑکتا ہوا ہے آگ دہکتی ہوئی ہے

— آفتاب حسین