5 اشعار

تیر اس بار نشانے کی طرف سے آیا

Teer is baar nishane ki taraf se aaya

تیر اس بار نشانے کی طرف سے آیایعنی اک زخم نہ آنے کی طرف سے آیا

کار دنیا نے اب الجھایا ہے ایسا کہ مجھےدھیان اپنا بھی زمانے کی طرف سے آیا

ہر گل تازہ میں خوشبوئے گزشتہ پائیہر نیا خواب پرانے کی طرف سے آیا

راستہ دیکھتے رہتے تھے کہ آئے گا کوئیاور جسے آنا تھا جانے کی طرف سے آیا

اب تو بچنے کی کوئی راہ نہیں ہے کہ وہ شخصیاد کچھ اور بھلانے کی طرف سے آیا

— آفتاب حسین