6 اشعار

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

Ab ke hum bichhde to shayad kabhi khwabon mein milein

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

«اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیںجس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتییہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لونشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسادونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پرکیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔجیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں

— احمد فراز