5 اشعار

اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم

Ab aur kya kisi se marasim badhaayein hum

اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم

«اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہمیہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم

صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھاسنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم

اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیباتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم

تو اتنی دل زدہ تو نہ تھی اے شب فراقآ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم

وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فرازؔہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بھی رلائیں ہم

— احمد فراز