6 اشعار

روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں

Roog aise bhi gham-e-yaar se lag jaate hain

روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں

«روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں» احمد فراز کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیںدر سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں

عشق آغاز میں ہلکی سی خلش رکھتا ہےبعد میں سیکڑوں آزار سے لگ جاتے ہیں

پہلے پہلے ہوس اک آدھ دکاں کھولتی ہےپھر تو بازار کے بازار سے لگ جاتے ہیں

بے بسی بھی کبھی قربت کا سبب بنتی ہےرو نہ پائیں تو گلے یار سے لگ جاتے ہیں

کترنیں غم کی جو گلیوں میں اڑی پھرتی ہیںگھر میں لے آؤ تو انبار سے لگ جاتے ہیں

داغ دامن کے ہوں دل کے ہوں کہ چہرے کے فرازؔکچھ نشاں عمر کی رفتار سے لگ جاتے ہیں

— احمد فراز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں