5 اشعار

اب کیا سوچیں کیا حالات تھے کس کارن یہ زہر پیا ہے

Ab kya sochein kya halaat the kis kaaran yeh zeher piya hai

اب کیا سوچیں کیا حالات تھے کس کارن یہ زہر پیا ہے

«اب کیا سوچیں کیا حالات تھے کس کارن یہ زہر پیا ہے» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

اب کیا سوچیں کیا حالات تھے کس کارن یہ زہر پیا ہےہم نے اس کے شہر کو چھوڑا اور آنکھوں کو موند لیا ہے

اپنا یہ شیوہ تو نہیں تھا اپنے غم اوروں کو سونپیںخود تو جاگتے یا سوتے ہیں اس کو کیوں بے خواب کیا ہے

خلقت کے آوازے بھی تھے بند اس کے دروازے بھی تھےپھر بھی اس کوچے سے گزرے پھر بھی اس کا نام لیا ہے

ہجر کی رت جاں لیوا تھی پر غلط سبھی اندازے نکلےتازہ رفاقت کے موسم تک میں بھی جیا ہوں وہ بھی جیا ہے

ایک فرازؔ تمہیں تنہا ہو جو اب تک دکھ کے رسیا ہوورنہ اکثر دل والوں نے درد کا رستہ چھوڑ دیا ہے

— احمد فراز