6 اشعار

اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیئے

Ab shauq se ke jaan se guzar jaana chahiye

اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیئے

«اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیئے» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیئےبول اے ہوائے شہر کدھر جانا چاہیئے

کب تک اسی کو آخری منزل کہیں گے ہمکوئے مراد سے بھی ادھر جانا چاہیئے

وہ وقت آ گیا ہے کہ ساحل کو چھوڑ کرگہرے سمندروں میں اتر جانا چاہیئے

اب رفتگاں کی بات نہیں کارواں کی ہےجس سمت بھی ہو گرد سفر جانا چاہیئے

کچھ تو ثبوت خون تمنا کہیں ملےہے دل تہی تو آنکھ کو بھر جانا چاہیئے

یا اپنی خواہشوں کو مقدس نہ جانتےیا خواہشوں کے ساتھ ہی مر جانا چاہیئے

— احمد فراز