8 اشعار

اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے

Agarche zor hawaon ne daal rakha hai

اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے

«اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہےمگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے

محبتوں میں تو ملنا ہے یا اجڑ جانامزاج عشق میں کب اعتدال رکھا ہے

ہوا میں نشہ ہی نشہ فضا میں رنگ ہی رنگیہ کس نے پیرہن اپنا اچھال رکھا ہے

بھلے دنوں کا بھروسا ہی کیا رہیں نہ رہیںسو میں نے رشتۂ غم کو بحال رکھا ہے

ہم ایسے سادہ دلوں کو وہ دوست ہو کہ خداسبھی نے وعدۂ فردا پہ ٹال رکھا ہے

حساب لطف حریفاں کیا ہے جب تو کھلاکہ دوستوں نے زیادہ خیال رکھا ہے

بھری بہار میں اک شاخ پر کھلا ہے گلابکہ جیسے تو نے ہتھیلی پہ گال رکھا ہے

فرازؔ عشق کی دنیا تو خوبصورت تھییہ کس نے فتنۂ ہجر و وصال رکھا ہے

— احمد فراز