7 اشعار

ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے

Aisa hai ke sab khwab musalsal nahin hote

ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے

«ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتےجو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے

اندر کی فضاؤں کے کرشمے بھی عجب ہیںمینہ ٹوٹ کے برسے بھی تو بادل نہیں ہوتے

کچھ مشکلیں ایسی ہیں کہ آساں نہیں ہوتیںکچھ ایسے معمے ہیں کبھی حل نہیں ہوتے

شائستگیٔ غم کے سبب آنکھوں کے صحرانمناک تو ہو جاتے ہیں جل تھل نہیں ہوتے

کیسے ہی تلاطم ہوں مگر قلزم جاں میںکچھ یاد جزیرے ہیں کہ اوجھل نہیں ہوتے

عشاق کے مانند کئی اہل ہوس بھیپاگل تو نظر آتے ہیں پاگل نہیں ہوتے

سب خواہشیں پوری ہوں فرازؔ ایسا نہیں ہےجیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے

— احمد فراز