اب سو جاؤ
کلام: فہمیدہ ریاض
اب سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
تم چاند سے ماتھے والے ہواور اچھی قسمت رکھتے ہو
یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض
مہمان شاعر: فہمیدہ ریاض
اب سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
تم چاند سے ماتھے والے ہواور اچھی قسمت رکھتے ہو
یہ زرد موسم کے خشک پتےہوا جنہیں لے گئی اڑا کر
اگر کبھی ان کو دیکھ پاؤتو سوچ لینا
برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلرُبا سااب ذہن میں نہیں ہے پر نام تھا بھلا سا
ابرو کھنچے کھنچے سے آنکھیں جھکی جھکی سیباتیں رکی رکی سی لہجہ تھکا تھکا سا