7 اشعار

ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے

Har koi dil ki hatheli pe hai sehra rakhe

ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے

«ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھےکس کو سیراب کرے وہ کسے پیاسا رکھے

عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنااے مری جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے

ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام تراکوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے

دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہےجو کسی اور کا ہونے دے نہ اپنا رکھے

کم نہیں طمع عبادت بھی تو حرص زر سےفقر تو وہ ہے کہ جو دین نہ دنیا رکھے

ہنس نہ اتنا بھی فقیروں کے اکیلے پن پرجا خدا میری طرح تجھ کو بھی تنہا رکھے

یہ قناعت ہے اطاعت ہے کہ چاہت ہے فرازؔہم تو راضی ہیں وہ جس حال میں جیسا رکھے

— احمد فراز