8 اشعار

ہوا کے زور سے پندار بام و در بھی گیا

Hawa ke zor se pindar-e-bam-o-dar bhi gaya

ہوا کے زور سے پندار بام و در بھی گیا

«ہوا کے زور سے پندار بام و در بھی گیا» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

ہوا کے زور سے پندار بام و در بھی گیاچراغ کو جو بچاتے تھے ان کا گھر بھی گیا

پکارتے رہے محفوظ کشتیوں والےمیں ڈوبتا ہوا دریا کے پار اتر بھی گیا

اب احتیاط کی دیوار کیا اٹھاتے ہوجو چور دل میں چھپا تھا وہ کام کر بھی گیا

میں چپ رہا کہ اسی میں تھی عافیت جاں کیکوئی تو میری طرح تھا جو دار پر بھی گیا

سلگتے سوچتے ویران موسموں کی طرحکڑا تھا عہد جوانی مگر گزر بھی گیا

جسے بھلا نہ سکا اس کو یاد کیا رکھتاجو نام لب پہ رہا ذہن سے اتر بھی گیا

پھٹی پھٹی ہوئی آنکھوں سے یوں نہ دیکھ مجھےتجھے تلاش ہے جس شخص کی وہ مر بھی گیا

مگر فلک کو عداوت اسی کے گھر سے تھیجہاں فرازؔ نہ تھا سیل غم ادھر بھی گیا

— احمد فراز