کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں
کلام: فہمیدہ ریاض
کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میںوہ شوخ رنگ بھی دھیمے پڑے ہواؤں میں
میں تیز گام چلی جا رہی تھی اس کی سمتکشش عجیب تھی اس دشت کی صداؤں میں
یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض
مہمان شاعر: فہمیدہ ریاض
کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میںوہ شوخ رنگ بھی دھیمے پڑے ہواؤں میں
میں تیز گام چلی جا رہی تھی اس کی سمتکشش عجیب تھی اس دشت کی صداؤں میں
جن پر میرا دل دھڑکا تھاوہ سب باتیں دہراتے ہو
وہ جانے کیسی لڑکی ہےتم اب جس کے گھر جاتے ہو
معاف کر مری مستی خدائے عز و جلکہ میرے ہاتھ میں ساغر ہے میرے لب پہ غزل
کریم ہے تو مری لغزشوں کو پیار سے دیکھرحیم ہے تو سزا و جزا کی حد سے نکل