6 اشعار

قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے

Qurbaton mein bhi judai ke zamane maange

قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے

«قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 7 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگےدل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے

ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتےخلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے

یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیےاب یہی ترک تعلق کے بہانے مانگے

اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکےاور محبت وہی انداز پرانے مانگے

زندگی ہم ترے داغوں سے رہے شرمندہاور تو ہے کہ سدا آئینہ خانے مانگے

دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جان فرازؔمل گئے تم بھی تو کیا اور نہ جانے مانگے

— احمد فراز