6 اشعار

قربت بھی نہیں دل سے اتر بھی نہیں جاتا

Qurbat bhi nahin dil se utar bhi nahin jaata

قربت بھی نہیں دل سے اتر بھی نہیں جاتا

«قربت بھی نہیں دل سے اتر بھی نہیں جاتا» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

قربت بھی نہیں دل سے اتر بھی نہیں جاتاوہ شخص کوئی فیصلہ کر بھی نہیں جاتا

آنکھیں ہیں کہ خالی نہیں رہتی ہیں لہو سےاور زخم جدائی ہے کہ بھر بھی نہیں جاتا

وہ راحت جاں ہے مگر اس در بدری میںایسا ہے کہ اب دھیان ادھر بھی نہیں جاتا

ہم دوہری اذیت کے گرفتار مسافرپاؤں بھی ہیں شل شوق سفر بھی نہیں جاتا

دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہےاور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا

پاگل ہوئے جاتے ہو فرازؔ اس سے ملے کیااتنی سی خوشی سے کوئی مر بھی نہیں جاتا

— احمد فراز