6 اشعار

روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں

Rog aise bhi gham-e-yaar se lag jaate hain

روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیںدر سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں

عشق آغاز میں ہلکی سی خلش رکھتا ہےبعد میں سیکڑوں آزار سے لگ جاتے ہیں

پہلے پہلے ہوس اک آدھ دکاں کھولتی ہےپھر تو بازار کے بازار سے لگ جاتے ہیں

بے بسی بھی کبھی قربت کا سبب بنتی ہےرو نہ پائیں تو گلے یار سے لگ جاتے ہیں

کترنیں غم کی جو گلیوں میں اڑی پھرتی ہیںگھر میں لے آؤ تو انبار سے لگ جاتے ہیں

داغ دامن کے ہوں دل کے ہوں کہ چہرے کے فرازؔکچھ نشاں عمر کی رفتار سے لگ جاتے ہیں

— احمد فراز