5 اشعار

شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو

Shola tha jal bujha hoon hawaain mujhe na do

شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو

«شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دومیں کب کا جا چکا ہوں صدائیں مجھے نہ دو

جو زہر پی چکا ہوں تمہیں نے مجھے دیااب تم تو زندگی کی دعائیں مجھے نہ دو

یہ بھی بڑا کرم ہے سلامت ہے جسم ابھیاے خسروان شہر قبائیں مجھے نہ دو

ایسا نہ ہو کبھی کہ پلٹ کر نہ آ سکوںہر بار دور جا کے صدائیں مجھے نہ دو

کب مجھ کو اعتراف محبت نہ تھا فرازؔکب میں نے یہ کہا ہے سزائیں مجھے نہ دو

— احمد فراز