5 اشعار

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے

Silsile tod gaya wo sabhi jaate jaate

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے

«سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتےورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھااپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناںپھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے

جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھیپا بجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے

اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھاتم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے

— احمد فراز