5 اشعار

آج رو کر تو دکھائے کوئی ایسا رونا

Aaj ro kar to dikhaye koi aisa rona

آج رو کر تو دکھائے کوئی ایسا رونایاد کر اے دل خاموش وہ اپنا رونا

رقص کرنا کبھی خوابوں کے شبستانوں میںکبھی یادوں کے ستونوں سے لپٹنا رونا

تجھ سے سیکھے کوئی رونے کا سلیقہ اے ابرکہیں قطرہ نہ گرانا کہیں دریا رونا

رسم دنیا بھی وہی راہ تمنا بھی وہیوہی مل بیٹھ کے ہنسنا وہی تنہا رونا

یہ ترا طور سمجھ میں نہیں آیا مشتاقؔکبھی ہنستے چلے جانا کبھی اتنا رونا

— احمد مشتاق