4 اشعار

چاند اس گھر کے دریچوں کے برابر آیا

Chand us ghar ke darichon ke barabar aaya

چاند اس گھر کے دریچوں کے برابر آیادل مشتاق ٹھہر جا وہی منظر آیا

میں بہت خوش تھا کڑی دھوپ کے سناٹے میںکیوں تری یاد کا بادل مرے سر پر آیا

بجھ گئی رونق پروانہ تو محفل چمکیسو گئے اہل تمنا تو ستم گر آیا

یار سب جمع ہوئے رات کی خاموشی میںکوئی رو کر تو کوئی بال بنا کر آیا

— احمد مشتاق