4 اشعار

چشم و لب کیسے ہوں رخسار ہوں کیسے تیرے

Chashm-o-lab kaise hon, rukhsar hon kaise tere

چشم و لب کیسے ہوں رخسار ہوں کیسے تیرےہم خیالوں میں بناتے رہے نقشے تیرے

تیرے ساونت کو سولی کی زباں چاٹ گئیجسم ابھی گرم تھا اور بال تھے گیلے تیرے

کیا کہوں کیا ترے افسردہ دلوں پر گزریکیسے تاراج ہوئے آئینہ خانے تیرے

اب کہاں دیکھنے والوں کو یقیں آئے گاباغ جنت تھا بدن خواب تھے بوسے تیرے

— احمد مشتاق