6 اشعار

رخصت شب کا سماں پہلے کبھی دیکھا نہ تھا

Rukhsat-e-shab ka saman pehle kabhi dekha na tha

رخصت شب کا سماں پہلے کبھی دیکھا نہ تھااتنا روشن آسماں پہلے کبھی دیکھا نہ تھا

دور تک پھیلا ہوا صحرا نظر آیا مجھےایک ذرہ بھی جہاں پہلے کبھی دیکھا نہ تھا

دیدنی تھا موج دریا کا نشاط بے پناہجلوۂ آب رواں پہلے کبھی دیکھا نہ تھا

اہل دنیا تو ہمیشہ ہی سے ایسے تھے مگرعشق اتنا ناتواں پہلے کبھی دیکھا نہ تھا

دل پریشاں ہو گیا رنگ زوال حسن سےآگ دیکھی تھی دھواں پہلے کبھی دیکھا نہ تھا

اس قدر حیراں نہ ہو آنکھوں میں آنسو دیکھ کرتجھ کو اتنا مہرباں پہلے کبھی دیکھا نہ تھا

— احمد مشتاق