5 اشعار

دھڑکتی رہتی ہے دل میں طلب کوئی نہ کوئی

Dhadakti rehti hai dil mein talab koi na koi

دھڑکتی رہتی ہے دل میں طلب کوئی نہ کوئیپکارتا ہے مجھے روز و شب کوئی نہ کوئی

شب الم ترے سادہ دلوں پہ کیا گزریسحر ہوئی تو سنائے گا سب کوئی نہ کوئی

زبان بند ہے آنکھوں کے بند رہنے تککھلے گی آنکھ تو کھولے گا لب کوئی نہ کوئی

ہوائے ساز الم لاکھ احتیاط کرےلرز ہی اٹھتا ہے تار طرب کوئی نہ کوئی

گھنے بنوں میں بھی رستہ نکل ہی آتا ہےبنا ہی دیتی ہے قدرت سبب کوئی نہ کوئی

— احمد مشتاق