11 اشعار

پھر وہی رات پھر وہی آواز

Phir wahi raat phir wahi aawaz

پھر وہی رات پھر وہی آوازمیرے دل کی تھکی ہوئی آواز

کہیں باغ نخست سے آئیکسی کوئل کی دکھ بھری آواز

ابھی چھایا نہیں ہے سناٹاآ رہی ہے کوئی کوئی آواز

پھڑپھڑاہٹ کسی پرندے کیکسی کونپل کی پھوٹتی آواز

ابھی محفوظ ہے ترا چہرہابھی بھولی نہیں تری آواز

میرے بستر پہ آ کے لیٹ گئیروشنی کی لکیر سی آواز

منہ اندھیرے جگا کے چھوڑ گئیایک صبح جمال کی آواز

دن سے فرصت کبھی ملے تو سنوشام کا ساز رات کی آواز

گونجتا ہے ابھی ترانۂ شوقوہی آہنگ ہے وہی آواز

ٹیڑھے میڑھے مڑے تڑے مکھڑےٹوٹی پھوٹی کٹی پھٹی آواز

بڑے دکھ جھیل کر کمائی ہےجو بھی ہے یہ بری بھلی آواز

— احمد مشتاق