4 اشعار

دکھ کی چیخیں پیار کی سرگوشیاں رہ جائیں گی

Dukh ki cheekhen pyaar ki sargoshiyan rah jaayen gi

دکھ کی چیخیں پیار کی سرگوشیاں رہ جائیں گیہم چلے جائیں گے آوازیں یہاں رہ جائیں گی

آئنوں جیسے بدن دریا بہا لے جائے گاریت میں پیراہنوں کی دھجیاں رہ جائیں گی

صبح سے پہلے گزر جائے گا یہ طوفان بھیآسماں پر اکا دکا بدلیاں رہ جائیں گی

ہو بھی جائے دل اگر خالی خیال و خواب سےپھر بھی اک کونے میں کچھ بے خوابیاں رہ جائیں گی

— احمد مشتاق