6 اشعار

برس کر کھل گیا ابر خزاں آہستہ آہستہ

Baras kar khul gaya abr-e-khizan aahista aahista

برس کر کھل گیا ابر خزاں آہستہ آہستہہوا میں سانس لیتے ہیں مکاں آہستہ آہستہ

بہت عرصہ لگا رنگ شفق معدوم ہونے میںہوا تاریک نیلا آسماں آہستہ آہستہ

کہیں پتوں کے اندر دھیمی دھیمی سرسراہٹ ہےابھی ہلنے لگیں گی ڈالیاں آہستہ آہستہ

جہاں ڈالے تھے اس نے دھوپ میں کپڑے سکھانے کوٹپکتی ہیں ابھی تک رسیاں آہستہ آہستہ

سماعت میں ابھی تک آہٹوں کے پھول کھلتے ہیںکوئی چلتا ہے دل کے درمیاں آہستہ آہستہ

بدل جائے گا موسم درد کی شاخ برہنہ میںنکلتی آ رہی ہیں پتیاں آہستہ آہستہ

— احمد مشتاق