5 اشعار

کبھی خواہش نہ ہوئی انجمن آرائی کی

Kabhi khwahish na hui anjuman-aarai ki

کبھی خواہش نہ ہوئی انجمن آرائی کیکوئی کرتا ہے حفاظت مری تنہائی کی

میں تو گم اپنے نشے میں تھا مجھے کیا معلومکس نے منہ پھیر لیا کس نے پذیرائی کی

وہ تغافل بھی نہ تھا اور توجہ بھی نہ تھیکبھی ٹوکا نہ کبھی حوصلہ افزائی کی

ہچکیاں شام شفق تاب کی تھمتی ہی نہ تھیںاب بھی رک رک کے صدا آتی ہے شہنائی کی

ہم سے پہلے بھی سخنور ہوئے کیسے کیسےہم نے بھی تھوڑی بہت قافیہ پیمائی کی

— احمد مشتاق