6 اشعار

کھڑے ہیں دل میں جو برگ و ثمر لگائے ہوئے

Khade hain dil mein jo barg-o-samar lagaye hue

کھڑے ہیں دل میں جو برگ و ثمر لگائے ہوئےتمہارے ہاتھ کے ہیں یہ شجر لگائے ہوئے

بہت اداس ہو تم اور میں بھی بیٹھا ہوںگئے دنوں کی کمر سے کمر لگائے ہوئے

ابھی سپاہ ستم خیمہ زن ہے چار طرفابھی پڑے رہو زنجیر در لگائے ہوئے

کہاں کہاں نہ گئے عالم خیال میں ہمنظر کسی کے در و بام پر لگائے ہوئے

وہ شب کو چیر کے سورج نکال بھی لائےہم آج تک ہیں امید سحر لگائے ہوئے

دلوں کی آگ جلاؤ کہ ایک عمر ہوئیصدائے نالۂ دود و شرر لگائے ہوئے

— احمد مشتاق