5 اشعار

خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونا

Khair auron ne bhi chaha to hai tujh sa hona

خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونایہ الگ بات کہ ممکن نہیں ایسا ہونا

دیکھتا اور نہ ٹھہرتا تو کوئی بات بھی تھیجس نے دیکھا ہی نہیں اس سے خفا کیا ہونا

تجھ سے دوری میں بھی خوش رہتا ہوں پہلے کی طرحبس کسی وقت برا لگتا ہے تنہا ہونا

یوں میری یاد میں محفوظ ہیں تیرے خد و خالجس طرح دل میں کسی شے کی تمنا ہونا

زندگی معرکۂ روح و بدن ہے مشتاقؔعشق کے ساتھ ضروری ہے ہوس کا ہونا

— احمد مشتاق