5 اشعار

مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے

Mil hi jaaega kabhi dil ko yaqeen rahta hai

مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہےوہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے

جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترےاے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے

اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھےاور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے

روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جگ بیت گئےعشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے

دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکنعمر بھر کون جواں کون حسیں رہتا ہے

— احمد مشتاق