5 اشعار

لے کے ہمراہ چھلکتے ہوئے پیمانے کو

Le ke hamrah chhalkate hue paimane ko

لے کے ہمراہ چھلکتے ہوئے پیمانے کوآن پہنچی ہے یہ ساعت بھی گزر جانے کو

ہاں اسے رہگزر خندۂ گل کہتے ہیںہاں یہی راہ نکل جاتی ہے ویرانے کو

فائدہ بھی کوئی جل جل کے مرے جانے سےکون اس شمع سے روشن کرے پروانے کو

سنگ اٹھانا تو بڑی بات ہے اب شہر کے لوگآنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے دیوانے کو

کل بھی دیکھا تھا انہیں آج بھی درشن ہوں گےحسب معمول وہ نکلیں گے ہوا کھانے کو

— احمد مشتاق