4 اشعار

سفر نیا تھا نہ کوئی نیا مسافر تھا

Safar naya tha na koi naya musafir tha

سفر نیا تھا نہ کوئی نیا مسافر تھاوہی طلب تھی وہی آشنا مسافر تھا

دیار درد کی پر ہول رہ گزاروں میںترا خیال کوئی دوسرا مسافر تھا

جو دیکھتا ہوں تو دیوار آئنہ کے ادھرمری ہی شکل کا اک بے نوا مسافر تھا

نظر ملی تھی گھڑی بھر کو پھر ملا نہ کبھینہ جانے کون تھا کس دیس کا مسافر تھا

— احمد مشتاق