5 اشعار

تھم گیا درد اجالا ہوا تنہائی میں

Tham gaya dard ujala hua tanhai mein

تھم گیا درد اجالا ہوا تنہائی میںبرق چمکی ہے کہیں رات کی گہرائی میں

باغ کا باغ لہو رنگ ہوا جاتا ہےوقت مصروف ہے کیسی چمن آرائی میں

شہر ویران ہوئے بحر بیابان ہوئےخاک اڑتی ہے در و دشت کی پہنائی میں

ایک لمحے میں بکھر جاتا ہے تانا بانااور پھر عمر گزر جاتی ہے یکجائی میں

اس تماشے میں نہیں دیکھنے والا کوئیاس تماشے کو جو برپا ہے تماشائی میں

— احمد مشتاق